پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے کیلئے ایرانی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہیں: پاکستانی فوج

اسلام آباد، 2 مارچ، ارنا - پاکستانی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل کو پُرامن ذریعے سے حل کرنے کے لئے مدد کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہیں.

ان خیالات کا اظہار پاکستانی آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کے ڈائریکٹر جنرل اور فوجی ترجمان میجر جنرل ''آصف غفور'' نے راولپنڈی میں غیرملکی صحافی اور میڈیا کے ساتھ ایک خصوصی نشست کے دوران ارنا نیوز کے نمائندے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کیا.
اس موقع پر ارنا کے نمائندے نے پاکستانی فوج کے ترجمان سے ایرانی وزیر خارجہ کے اپنے پاکستانی ہم منصب کے درمیان حالیہ رابطے اور تہران کی ثالثی کی پیشکش کے حوالے سے سوال کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے ایرانی دوستوں کی تجویز کی حمایت اور اس کا خیرمقدم کرتے ہیں.
جنرل آصف غفور نے مزید کہا کہ ہم ایسی بات کی اپنے دوست اور برادر ملک اسلامی جمہوریہ ایران سے توقع رکھتے ہیں.
انہوں نے حالیہ علاقائی تبدیلیوں پر ایرانی مؤقف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران ہمارا دوست ملک ہے اور ایران، ترکی اور چین جیسے ہمارے دوست ممالک نے ہرگز پاک بھارت مسائل پر جانبدرانہ رویہ اختیار نہیں کیا بلکہ یہ ممالک چاہتے ہیں کہ تمام مسائل پُرامن طور پر حل ہوں.
پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ بھارتی طیاروں کو گرا کر نہ کوئی خوشی ہوئی اور نہ ہی ہم نے کوئی جشن منایا مگر ہم مجبور تھے کہ اپنی فضائی حدود کی حفاظت کے لئے ایسا قدم اٹھائیں اور یہ بات یاد رہے کہ اس سے پہلے بھارتی جنگی طیاروں نے پاکستان میں دراندازی کی تھی.
انہوں نے پاک ایران سرحدی علاقوں کی سلامتی کو مضبوط بنانے کے طریقوں سے متعلق کہا کہ پاکستانی بارڈر فورسز کا اپنے ایرانی دوستوں کے ساتھ اچھا تعاون ہے.
میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ پاکستان، ایران کے ساتھ اپنی سرحد کو محفوظ بنانے کے لئے پُرعزم ہے، اس مقصد کے لئے ہم نے ایف سی فورسز میں خصوصی مرکز بھی قائم کیا ہے اور حال ہی میں پاک ایران بارڈر پر سیکورٹی فورسز کی تعداد میں بھی اضافہ کیا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بڑی سنجیدگی سے ایران کے ساتھ اپنی سرحد پر باڑ لگانے کے منصوبے پر غور کررہا ہے اور ہم یقینا اس تجویز کو اپنے ایرانی بھائیوں کے سامنے رکھیں گے.
ترجمان پاکستانی افواج نے بتایا ان کا ملک افغانستان کے ساتھ ملحقہ مشترکہ سرحد پر بھی باڑ لگا رہا ہے مگر یہ افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ دہشتگردوں کے خلاف ہے تا کہ وہ سرحدوں سے غیرقانونی طور پر داخل ہو کر کاروائیاں نہ کرسکیں.
انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے بعض دہشتگرد عناصر ایران میں کاروائیاں کرکے پاکستان کی سرحدی حدود میں داخل ہوتے ہیں جو ہماری دسترس سے باہر ہے مگر پاکستان ان عناصر کا تعاقب کرکے انھیں گرفتار کرے گا اور یقینی طور پر ان دہشتگردوں کو ایران کے حوالے کردیا جائے گا.
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ جس طرح پاکستان نے 12 مغوی ایرانی اہلکاروں میں سے پانچ کو بازیاب کرانے میں ایران کی مدد کی ویسے ہی مستقبل میں ایسے تعاون کا سلسلہ جاری رکھے گا.
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے ایرانی دوستوں کے ساتھ تعاون پر بہت خوش ہیں اور پاکستان اور اس کی فوج ایران کے ساتھ اپنے تعلقات اور تعاون پر ذرہ برابر بھی کوئی شک نہیں.
جنرل غفور نے کہا کہ پاکستان کے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کا ہرگز پاک بھارت تعلقات سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا.
پاک بھارت بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ صبر و تحمل سے کام لیں.
گزشتہ بدھ کی رات ایران وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ کیا.
انہوں نے اس موقع پر کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، پاک بھارت مسائل کے پُرامن حل کے لئے مدد فراہم کرنے پر آمادہ ہے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@



برچسب ها

سیاس

ی