ثقافتی مشترکات، ایران پاکستان تعلقات کا ایک اہم ستون

اسلام آباد، 13 جون، ارنا - فارسی، تاریخی نوادرات، خطاطی، لباس، خوراک ایران اور پاکستان کے درمیان ثقافتی مشترکات میں سے ہیں تاہم بعض اوقات کچھ اقدامات چاہے کتنے بھی چھوٹے ہوں مگر دونوں ممالک کے ثقافتی مشترکات کو اُجاگر کرنے کے لئے اہم ثابت ہوتے ہیں.

فارسی گزشتہ ایک ھزار سال پہلے سے برصغیر بشمول پاکستان کی سرکاری زبان رہی ہے جس کے بعد 18ویں صدی میں برطانوی راج نے اس زبان پر پابندی لگا کر انگریزی زبان کو اس کی جگہ مسلط کردی.

اس کے باوجود پاکستان میں فارسی زبان کا خاتمہ نہیں ہوا اور آج ہم یہاں کی مختلف جامعات اور تعلیمی مراکز میں فارسی شعبے دیکھ سکتے ہیں.

فارسی، ایران اور پاکستان کے ان ثقافتی مشترکات کا ایک جز ہے جس سے ثقافت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دیا جاسکتا ہے.

ایران اور پاکستان ایک دوسرے کے ہمسایہ ملک ہیں اسی لئے یہاں سیاحتی مقامات، مذہب، روحانی شخصیات، اسلامی مشاہیر، تقاریب بالخصوص ثقافتی رسومات بشمول نوروز ان کے مشترکات میں سے ہیں.

لہذا دونوں ممالک کے عوام کو مزید قریب لانے کے لئے ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس کے لئے ثقافت سے مزید استفادہ کیا جاسکتا ہے.

مثال کے طور پر رمضان المبارک کے مہینے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نعت اور حمد پڑھنے والے گروہوں نے پاکستان کا دورہ کیا جن کا شایان شان استقبال کیا گیا.

تسنیم اور ثقلین کے تواشیح گروہوں کے ذاکروں نے پاکستانی شہر کراچی میں مختلف تقاریب میں شرکت کی اور اس کے علاوہ مختلف ٹی وی پروگراموں میں حمد و نعت کے قابل ستائش تقاریب بھی منعقد کیں.

ثقلین گروہ کے اراکین نے اسلام آباد اور لاہور کے دورے بھی کئے جہاں انہوں نے اہل سنت کی مساجد میں بھی مذہبی پروگراموں میں شرکت کی.

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کہ ایسے دینی اور مذہبی گروہوں کی پاکستان آمد سے قرآنی اور اسلامی شعبوں میں تعلقات کو مزید فروغ دیا جاسکتا ہے جس سے ثقافتی تبادلوں میں اضافہ اور انسداد انتہاپسندی میں بھی مدد ملے گی.

اسی حوالے سے ایرانی پارلیمنٹ کی ثقافتی کمیٹی کے رکن علامہ 'احمد آزادی خواہ' نے ارنا نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاک ایران ثقافتی تعلقات کو بڑھانے کے لئے پارلیمنٹ میں اقدامات اٹھائے جائیں گے.

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان، ثقافتی، اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں مشترکہ تعاون بڑھانے کے لئے ایک اہم ذریعہ اور موقع ہے. پاکستان کے ذریعے ہم بر صغیر کے دیگر ممالک سے قریب ہوسکتے ہیں. اس خطے میں چین بھی واقع ہے جس نے گروپ 5+1 کے ساتھ جوہری مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا، لہذا پاک ایران تعلقات بالخصوص ثقافتی مراسم کو مزید فروغ دینا ہوگا.

رکن ایرانی پارلیمنٹنے دونوں ممالک کےدرمیان روائتی موسیقی کے فروغ، فلم، سنیما اور دیگر فن کے شعبوں میں باہمی تعاون کو بڑھانے پر بھی زور دیا.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@



برچسب ها

فرهنگی