پاک ایران تجارت کی توسیع کے لئے تھینک ٹینک کا قیام اہم قرار

اسلام آباد، 13 جون، ارنا - ایران اور پاکستان کی بزنس کونسل کے سربراہ نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ دینے اور معاہدوں کے نفاذ کے لئے تھینک ٹینک کے قیام کی ضرورت ہے.

یہ بات 'سید علی رضا رضوی' جو لاہور کے ایوان صنعت و تجارت کے رکن بھی ہیں، نے ارنا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سنہرے مواقع کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ باہمی تجارتی روابط کا فروغ نہ ہونے کی اصل وجہ دونوں ممالک کی مارکیٹوں کو ایک دوسرے کی معلومات پر عدم رسائی ہے.

انہوں نے کہا کہ بہت سے پاکستانی تاجر ایران کے ساتھ تجارت کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے پاس ایران کی بازاروں کے بارے میں معلومات نہ ہونے کا برابر ہے.

ایران پاکستان بیزنس کونسل کے سربراہ کا کہنا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے تاجر برادری ایک دوسرے کی صلاحیتون اور مواقعوں سے بخوبی اگاہ ہیں لیکن اس حوالے سے ایک دوسرے کی مارکیٹوں کے بارے میں آگاہی کی کمی بھی ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر امریکہ کی دباؤ اور پابندیوں کی وجہ سے بہت سے پاکستانی تاجر ایران کے ساتھ تجارت کرنے سے کتراتے ہیں.

سید علی رضا رضوی نے دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ چینل کے عدم بحالی کو دوطرفہ اقتصادی روابط کے فروغ میں بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پاک ایران کے تجارتی تعلقات میں بڑی حد تک کمی واقع ہوئی ہے.

پاکستان کے معروف کاروباری شخصیت نے ایران کے ساتھ دوسرے ممالک کی تاجروں کی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی تاجر برادری مشکلات کو پس پشت ڈالتے ہوئے ایران کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی روابط قائم کرسکتے ہیں.

گذشتہ سالوں میں ایران سے ایک سو تجارتی وفود کا پاکستان کے دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہت خوشی ہے کہ ایرانی حکومت پاکستان کے ساتھ تجارت کی روابط کے فروغ کے لئے انتھک محنت کررہی ہے.

دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فلائٹوں کے آغاز پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پر گہڑے اثرات مرتب ہوں گے.

لاہور ایوان صنعت اور تجارت کے سینیئر رکن نے دونوں ممالک کے درمیان مشترکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام ایران سے بڑی محبت کرتے ہیں جس سے استفادہ کرتے ہوئے باہمی تجارتی اور اقتصادی روابط کے فروغ کے لئے مدد حاصل کرسکتے ہیں.

انہوں نے دونوں ممالک کی جامعات کے مشترکہ کاوشوں اور تعاون پر زور دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے طلبہ اور طالبات کی تبادلوں کے لئے کوئی بھی ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے.

انہوں نے ایران کی امریکہ کے خلاف سفارتی اور دہشتگردی کے محاذ میں پانے والے کامیابیوں کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے اب تک جو ایران کے خلاف کاروائیاں کی ہے اس میں وہ ناکام رہا ہے.

1*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@



برچسب ها

اقتصادی