ایرانی صدر کے دورہ چین سے دوطرفہ تعلقات میں مزید اضافہ ہوگا: چینی تجزیہ کار

بیجنگ، 8 جون، ارنا - چینی انسٹی ٹیوٹ برائے عالمی سیاسیات اور سوشل سائنسز کے تجزیہ کار نے کہا ہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی کے دورہ چین سے باہمی تعلقات کو مزید بڑھانے کے لئے مثبت اثرات مرتب ہوں گے.

یہ بات ''وانگ یانگ چانگ'' نے جمعہ کے روز ارنا نیوز ایجنسی کے نمائندے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی.

انہوں مزید کہا کہ شنگھائی سربراہی اجلاس کے موقع پر ایران اور چین مالیاتی، سیاسی ثقافتی اور سفارتی شعبوں میں مشترکہ تعاون کو مزید بڑھانے کے لئے اہم مذاکرات کرسکتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب امریکہ ایران پر پھر پابندیاں لگانے پر اترا ہے اور وہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لئے دنیا کے دوسرے ممالک کو اپنے ساتھ کھڑا کرنا چاہتا ہے، روحانی کے دورہ چین سے اس دباؤ کے اثرات کو کم کرستا ہے جبکہ دوطرفہ تعلقات کو مزید بڑھانے میں مدد بھی ملے گی.

چینی تجزیہ کار نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ شنگھائی سربراہی اجلاس کے اختتامی اعلامیہ میں ایران جوہری معاہدے کے تحفظ کا مطالبہ کیا جائے گا.

انہوں نےمزید کہا کہ ایران، شنگھای تنظیم کا مبصر رکن ہے مگر وہ مستقل رکن کی طرح تعاون کررہاہ ہے اور ہم سمجھتے ہیں اسلامی جمہوریہ ایران شنگھائی تنظیم کے ذریعے دنیا کے ساتھ بہتر تعاون کرسکتا ہے.

وانگ یانگ چانگ کا کہنا تھا کہ ایران تیل و گیس کے قدرتی ذخائر کے لحاظ سے خطے اور دنیا کا اہم ملک ہے. چین بھی ترقی کی سمت آگے بڑھ رہا ہے اور اسے ایران کی توانائی صلاحیت کی ضرورت جبکہ چین چاہتا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لئے توانائی کی پیداوار کے عمل سے کوئلہ کے استعمال کو ختم کرے.

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور چین باصلاحیت ممالک ہیں جو توانائی کے شعبے اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبے میں اہم تعاون کرسکتے ہیں.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@



برچسب ها

سیاسی